منگل 1 ستمبر 2026 - 11:57
آیت اللہ جوادی آملی: خدا کی معرفت کے لیے دل اور آنکھوں کی بیداری ضروری ہے

حوزہ/ آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے بیداری شب اور نماز شب کو خدا کی معرفت اور قربِ الٰہی کے حصول کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے انسان کی روحانی بیداری میں تفکر اور شب زندہ داری کے بنیادی کردار کو بیان کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی کی کتاب «حکمت عبادات» میں عبادات کی حکمت، بالخصوص شب بیداری اور نماز شب کے فلسفے اور برکات سے متعلق گہری معرفتی نکات بیان کیے گئے ہیں۔

انہوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی معروف حدیث «إن الوصول إلی الله سفر لا یُدرک إلا بامتطاء اللیل» کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ خداوند متعال تک پہنچنا ایک ایسا سفر ہے جس کے لیے شب بیداری بہترین اور تیز رفتار سواری ہے۔ جو شخص لقائے الٰہی کا مشتاق ہو، اس کے لیے شب زندہ داری بہترین وسیلہ ہے۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کی پابندی اور اس کے ذریعے گناہوں سے پاک ہونے کے اثرات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر انسان پر کئی گرہیں بندھی ہوئی ہیں۔ رات کا ایک تہائی حصہ گزرنے کے بعد ایک فرشتہ اسے اللہ کو یاد کرنے اور بیدار ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ اگر وہ بیدار ہو کر اللہ کو یاد کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر وضو کرکے نماز کے لیے کھڑا ہوجائے تو تمام گرہیں کھول دی جاتی ہیں اور وہ خوش و روشن آنکھوں کے ساتھ صبح کرتا ہے۔

آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق، اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز شب انسان کی زندگی کی بہت سی روحانی اور باطنی گرہیں کھولنے کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے امام صادق علیہ السلام سے منقول امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فرمان «نبّهْ بالتفکر قلْبک، وجافِ عن النوم جَنْبک، واتق الله ربّک» کی طرف بھی اشارہ کیا، جس میں تفکر کے ذریعے دل کو بیدار کرنے، رات کو نیند سے کنارہ کش ہوکر نماز شب ادا کرنے اور اللہ سے تقویٰ اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

آیت اللہ جوادی آملی نے وضاحت کی کہ تفکر دل کو بیدار کرتا ہے؛ کیونکہ کبھی انسان کا دل غفلت کی نیند میں مبتلا ہوجاتا ہے اور حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ اسی لیے حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: «نعوذ بالله من سبات العقل»؛ یعنی ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں عقل کے سو جانے سے۔

ماخذ: کتاب «حکمت عبادات»، ص 116، 117

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha